راہول نے نوجوانوں کے ساتھ آئے
پولیس پر الزام لگایا ایک طالبہ نے کہا کہ اس کے پرائیویٹ پارٹس میں مارا گیا، جبکہ ایک نوجوان نے کہا کہ اسے غنڈوں کے کہنے پر حراست میں لیا گیا
نئی دہلی، 14 اکتوبر (یو این آئی) کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے کہا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو ہٹانے کے مطالبے کے حق میں مظاہرہ کرنے والے نوجوانوں کے ساتھ مار پیٹ کے معاملوں میں جمع کیے جا رہے ویڈیو شواہد کی بنیاد پر وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ اور مار پیٹ کرنے والے پولیس اہلکاروں کو جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔
مسٹر گاندھی نے بدھ
کو یہاں 10 جن پتھ کے باہر پریس کانفرنس میں مظاہرے میں شامل نوجوانوں سے ملاقات کی اور پولیس کی مبینہ بربریت کے بارے میں ان کی آپ بیتی سنی۔ انہوں نے خود نوجوانوں کا تعارف کراتے ہوئے کہا، “یہ کسی مذہب، ذات، عورت یا مرد کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ ہندوستان کی ایک آواز اور ایک مظاہرہ ہے، جس کے سامنے کوئی کھڑا نہیں ہو سکتا۔ امت شاہ جی، یہ ہندوستان ہے، اسے اچھی طرح دیکھ لیجیے۔ یہاں کوئی ہندو، مسلمان، کسی ذات کا شخص، عورت یا مرد نہیں ہے، بلکہ ہندوستان کی ایک آواز ہے۔ آپ اور وزیر اعظم اس آواز کے سامنے کھڑے ہیں۔ میں آپ کو مشورہ دیتا ہوں کہ اس آواز کے سامنے کھڑے مت ہوں، کیونکہ اس کے سامنے کوئی کھڑا نہیں ہو سکتا۔ میں پولیس والوں سے پیار سے کہنا چاہتا ہوں۔”
مظاہرے میں شامل رہے سارتھ نے اپنی آپ بیتی سناتے ہوئے کہا، “ہم چار اکتوبر سے پرامن مظاہرہ کر رہے تھے۔ پانچ اکتوبر کو حراست میں لے کر ہمیں پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے لے جایا گیا، جہاں 15 سے 20 پولیس اہلکاروں نے ہمارے ساتھ مار پیٹ کی۔ ایک کانسٹیبل نے مجھے اور دھرمیندر کمار کو پیٹا۔ جب دھرمیندر نے الٹی آنے کی بات کہی تو پولیس اہلکاروں نے ان سے بیگ میں الٹی کرنے کو کہا۔ ہمیں پیسے لے کر مظاہرہ کرنے والا بھی بتایا گیا۔ اس کے باوجود میں اپنے حقوق کے لیے لڑتا رہوں گا۔”
دھرمیندر کمار نے کہا، “میرے ساتھ مار پیٹ کی گئی اور میرے خلاف جھوٹے الزامات میں ایف آئی آر درج کی گئی۔ زخمی ہونے کے باوجود مجھے تہاڑ جیل بھیجا گیا اور عدالت میں وہیل چیئر پر پیش کیا گیا۔ میں ڈر کر گھر نہیں بیٹھوں گا اور اپنا مظاہرہ جاری رکھوں گا۔”
مظاہرے میں شامل ایک طالبہ کا تعارف کراتے ہوئے مسٹر گاندھی نے انہیں ‘شیرنی’ بتایا۔ اس طالبہ نے الزام لگایا، “خاتون پولیس اہلکار نے میرا گلا دبایا، چہرے پر ناخنوں سے خراشیں ماریں، تھپڑ مارا اور بال کھینچے۔ میرے کان میں چوٹ لگی اور بالی اندر دھنس گئی، جسے ڈاکٹر نے نکالا۔ کناٹ پلیس تھانے میں بھی مجھے گھسیٹ کر پیٹا گیا اور پیروں پر ڈنڈے مارے گئے۔ اس کے باوجود میں پیچھے نہیں ہٹوں گی۔”
کیرالہ کی طالبہ آتیرا نے کہا، “خاتون پولیس اہلکار نہیں ہونے کے بارے میں پوچھنے پر مجھے سڑک پر گھسیٹا گیا اور ایک ایسے مقام پر لے جایا گیا جہاں سی سی ٹی وی کیمرے نہیں تھے۔ وہاں میرے چہرے، آنکھ، سینے، پیٹ، پیٹھ اور نجی اعضا پر چوٹ پہنچائی گئی۔ پولیس اہلکاروں کے رویے سے لگا کہ انہوں نے ہمیں انسان تک نہیں سمجھا۔”
مظاہرے میں شامل رہے ارجن نے الزام لگایا، “مجھے راجیو چوک کے پاس عارضی حراستی مرکز میں لے جایا گیا، جہاں پولیس نے فون چھین کر ان کی جانچ کی۔ بعد میں جیل وین میں پولیس اہلکاروں نے مجھے پیٹا۔ وہاں چار نابالغ بھی تھے جو مظاہرے میں شامل نہیں تھے۔ ان کے ساتھ بھی مار پیٹ کی گئی۔ حراست میں لیے گئے لوگوں کو دہلی سے تقریباً 35 سے 40 کلومیٹر دور پنڈوالا خورد لے جایا گیا۔ میں اس پورے معاملے کی جوابدہی طے کرنے کا مطالبہ کرتا ہوں۔”
کانٹینٹ کریٹ رمیت نے کہا، “11 اکتوبر کو پرامن مظاہرے کے دوران مجھے حراست میں لیا گیا۔ میرے الزام کے مطابق، کچھ لوگ مظاہرین کو دھمکیاں دے رہے تھے، لیکن پولیس نے ان کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے ہمیں حراست میں لیا۔ مظاہرین کے فون چھینے گئے اور خواتین والی بس میں کوئی خاتون پولیس افسر موجود نہیں تھی۔ میں نفرت کا جواب محبت سے دینے میں یقین رکھتا ہوں۔”
رمیت سے جب راہل نے پوچھا کہ وہ ان کے ساتھ مار پیٹ کرنے والوں کو کیسا جواب دیں گے تو رمیت نے فوراً اپنی بانسری نکالی اور بانسری کی دھن سنانے لگے




