جنتر منتر معاملے میں سی جے پی لیڈران سورو داس، آشوتوش رانکا اور اجنکیا شندے کو دہلی کرائم برانچ نے طلب کیا
نئی دہلی، دہلی کے جنتر منتر پر مبینہ غیر مجاز داخلے اور سرکاری احکامات کی خلاف ورزی سے متعلق معاملے میں کرائم برانچ نے کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے لیڈران سورو داس، آشوتوش رانکا اور اجنکیا شندے کو طلب کیا ہے۔ابتدائی معلومات کے مطابق، یہ معاملہ 13 اکتوبر کو جنتر منتر پر ہوئے احتجاجی مظاہرے سے متعلق ہے، جس کے بعد دہلی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے دو ایف آئی آر درج کی تھیں۔ فی الحال اس معاملے کی جانچ اب کرائم برانچ کر رہی ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ 13 اکتوبر کو سورو داس، آشوتوش ر
انکا، اجنکیا شندے اور سی جے پی کے 11 دیگر اراکین جنتر منتر پہنچے تھے۔ پولیس کا الزام ہے کہ مظاہرین نے نجی احاطے کے راستے اس مقام میں داخلہ لیا جسے احتجاج کے مقام کے طور پر نوٹیفائی نہیں کیا گیا تھا۔ پولیس اہلکاروں نے انہیں روکنے کی کوشش کی، لیکن پولیس کے مطابق مظاہرین نے مبینہ طور پر بیریکیڈز عبور کیے اور افسران کو ڈیوٹی کرنے سے روکا۔ اس دوران مظاہرین نے ترنگا لہرایا اور نعرے بازی بھی کی۔ اس واقعے کے بعد تمام 14 افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ پولیس نے دو الگ الگ ایف آئی آر درج کیں۔اس معاملے میں پہلی ایف آئی آر نئی دہلی کے کناٹ پلیس تھانے میں درج کی گئی۔ اس میں بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعہ 223 کے تحت سرکاری ملازم کے قانونی حکم کی نافرمانی، دفعہ 332 کے تحت جرم کے ارتکاب کی غرض سے غیر قانونی گھس پیٹھ (ہاؤس ٹریس پاس) اور دفعہ 61(2) کے تحت مجرمانہ سازش سے متعلق الزامات شامل ہیں۔ وہیں، دوسری ایف آئی آر سنسد مارگ تھانے میں درج کی گئی تھی۔ یہ معاملہ مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں کے کام میں رکاوٹ ڈالنے، ان پر حملہ کرنے اور چوٹ پہنچانے جیسے الزامات سے متعلق ہے۔دہلی پولیس نے دونوں ہی معاملات کی جانچ کرائم برانچ کے سپرد کر دی ہے۔ تفتیش کے تحت واقعے کے دوران پیش آنے والی سرگرمیوں اور متعلقہ الزامات کی چھان بین کی جا رہی ہے۔ وہیں، جنتر منتر کے واقعے سے قبل 10 اکتوبر کو بھی سورو داس اور آشوتوش رانکا کو ایک احتجاجی مظاہرے کے سلسلے میں حراست میں لیا گیا تھا۔ دونوں نے امن برقرار رکھنے کے لیے ایک سال کی مدت کا بانڈ بھرا تھا۔13 اکتوبر کے واقعے کے بعد پولیس نے الزام لگایا کہ دونوں لیڈران نے پہلے دی گئی یقین دہانی کی خلاف ورزی کی۔ اس کے بعد 14 اکتوبر کو دونوں کو پانچ روزہ عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا۔ بعد ازاں ان کی تحویل میں مزید دو دن کی توسیع کر دی گئی۔ وہیں، اجنکیا شندے کو 5,000 کے مچلکے پر رہا کیا گیا تھا۔ ان کے معاملے میں امن و امان قائم رکھنے سے متعلق شرائط عائد کی گئی تھیں۔سی جے پی کی جانب سے گرفتاری اور حراست کی کارروائی کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔ پارٹی نے ضمانت داروں سے متعلق طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھائے تھے اور عدالت کے حکم کو چیلنج کرنے کی بات کہی تھی۔ تاہم، پولیس کا کہنا ہے کہ کارروائی امن و امان برقرار رکھنے اور مبینہ خلاف ورزیوں کے پیش نظر کی گئی ہے۔




