ایران کے نئے وزیر دفاع مہرداد اخلاقی کتابچی مقرر

تہران، ایران نے مہرداد اخلاقی کتابچی کو نیا وزیر دفاع مقرر کیا ہے۔ پارلیمنٹ نے اتوار کو آن لائن اجلاس کے دوران ان کی تقرری کی منظوری دے دی۔ یہ تقرری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ کے ساتھ جنگ میں مزید شدت آنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
68 سالہ مہرداد اخلاقی کتابچی کو ایران کی پارلیمنٹ میں 237 ارکان کی حمایت حاصل ہوئی، جبکہ 15 ارکان نے ان کی تقرری کے خلاف ووٹ دیا۔ وہ وزارت دفاع اور مسلح افواج کے لاجسٹکس امور کی ذمہ داری سنبھالیں گے۔ 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد سے پارلیمنٹ کے اجلاس آن لائن منعقد کیے جا رہے ہیں۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، اس عہدے پر کچھ عرصے سے فائز مجید ابن رضا اب اخلاقی کتابچی کے نائب کے طور پر کام کریں گے۔ نئے وزیر دفاع کو ایران کے فوجی صنعتی ڈھانچے کی ازسرنو تعمیر اور توسیع کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، جسے امریکہ اور اسرائیل نے اپنے حملوں میں شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ان کے دفاعی منصوبوں کو پہلے ہی اعلیٰ فوجی حکام، صدر مسعود پزشکیان اور پارلیمنٹ کی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کی منظوری حاصل ہو چکی ہے۔
یران کے صدر مسعود پزشکیان نے نئے وزیر دفاع کی تقرری کے بعد کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کسی بھی ملک کے خلاف جارحیت میں پہل نہیں کرے گا، لیکن اگر اس پر حملہ کیا گیا تو وہ اپنی علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے پوری طاقت سے آخری دم تک لڑے گا۔صدر نے کہا کہ مہرداد اخلاقی کتابچی کو وزارت دفاع اور اس سے وابستہ اداروں میں 42 سال سے زیادہ کا تجربہ حاصل ہے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق، ان کی مہارت کے اہم شعبوں میں بیلسٹک میزائل، ٹھوس ایندھن سے چلنے والے راکٹوں کی ٹیکنالوجی، ایرو اسپیس ٹیکنالوجی اور فوجی صنعتی پیداوار شامل ہیں۔
مہرداد اخلاقی کتابچی اس سے قبل شہید باقری انڈسٹریل گروپ، ایرو اسپیس انڈسٹریز آرگنائزیشن اور ڈیفنس انڈسٹریز آرگنائزیشن کے سربراہ کے طور پر کام کر چکے ہیں۔ ان اداروں کے ساتھ ساتھ کتابچی بھی امریکی پابندیوں کی زد میں ہیں۔ ان پر اقوام متحدہ کی پابندیاں بھی عائد ہیں۔ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، وہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران مختلف اقسام کے میزائلوں اور ہتھیاروں کی تیاری کے منصوبوں میں شامل رہے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ایران کے اہم بیلسٹک میزائل پروگراموں، خصوصاً ’سجیل‘ اور ’ذوالفقار‘ میزائلوں کی توسیع میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ ’الماس‘ میزائلوں اور ’یاسین‘ گائیڈڈ بموں جیسے درست نشانہ لگانے والے ہتھیاروں کی تیاری میں بھی ان کا کردار بتایا جاتا ہے۔انہیں خلائی راکٹوں، تحقیقی راکٹوں اور صوبہ سمنان میں واقع امام خمینی اسپیس سینٹر کے بنیادی ڈھانچے کے حوالے سے بھی مہارت حاصل ہے۔ایران کے دفاعی نظام اور فوجی صلاحیتوں میں ان شعبوں کو اہمیت حاصل رہی ہے، خصوصاً امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری تنازع کے تناظر میں۔ نئے وزیر دفاع کے سامنے اب دفاعی صنعت کو مضبوط بنانے، متاثرہ فوجی ڈھانچے کی بحالی اور میزائل و ایرو اسپیس پروگراموں کو آگے بڑھانے جیسے اہم چیلنجز ہوں گے۔

Related Articles