افغانستان پر قبضے کے بعد طالبان اور امریکہ کے مابین دوحہ میں پہلے براہ راست مذاکرات

دوحہ،اکتوبر۔افغانستان سے اگست میں امریکی فوجی انخلا اور ملک پر طالبان کے قبضے کے بعد پہلی بار امریکی حکام نے طالبان کے نمائندوں سے براہ راست ملاقات اور بات چیت کی ہے۔امریکی حکام کے مطابق قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے اس اجلاس میں انھوں نے طالبان سے دہشتگرد گروہوں کو روکنے، امریکی شہریوں کے انخلا اور انسانی ہمدردی کی امداد جیسے موضوعات پر بات کی۔امریکہ کا دعویٰ ہے کہ طالبان کے نمائندوں کے ساتھ یہ مذاکرات افغانستان میں ان کی حکمرانی تسلیم کرنے کے مترادف نہیں ہیں۔ اس ملاقات سے ایک روز قبل افغانستان میں غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد سے سب سے خطرناک دہشت گرد حملہ ہوا تھا۔جمعے کو شمالی شہر قندوز میں ایک خود کش دھماکے میں کم از کم 50 افراد ہلاک اور 100 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ مقامی شیعہ برادری کی سید آباد مسجد میں اس حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم نام نہاد دولت اسلامیہ نے قبول کی تھی۔امریکہ اور طالبان کے درمیان ان مذاکرات کے بعد طالبان کی جانب سے افغانستان کے منتخب کردہ وزیر خارجہ امیر خان متقی کا کہنا تھا کہ دونوں فریقین نے سنہ 2020 میں طے ہونے والے دوحہ معاہدے کی پاسداری پر اتفاق کیا ہے۔اس معاہدے میں طالبان کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ ملک میں القاعدہ جیسے گروہوں کو روکنے کے لیے اقدامات کریں گے تاکہ وہ امریکہ یا اس کے اتحادیوں کی سلامتی کے لیے خطرہ نہ بن سکیں۔امیر متقی کا کہنا تھا کہ امریکی حکام نے طالبان سے کہا ہے کہ وہ ملک میں کووڈ ویکسین اور انسانی ہمدردی کی امداد پہنچانے میں مدد فراہم کریں گے۔امریکہ نے تاحال ان مذاکرات پر کوئی بیان جاری نہیں کیا مگر اس سے قبل امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے بتایا تھا کہ امریکی وفد ہفتے اور اتوار کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان کے سینئر نمائندوں سے ملاقات کرے گا۔محکمہ خارجہ نے کہا تھا کہ اس ملاقات میں ’ہم طالبان پر دباؤ ڈالیں گے کہ وہ خواتین اور لڑکیوں سمیت تمام افغانوں کے حقوق کا احترام کریں اور وسیع حمایت کے ساتھ ایک جامع حکومت بنائیں۔‘انھوں نے کہا تھا کہ ’جیسا کہ افغانستان کو شدید معاشی بدحالی اور ممکنہ انسانی بحران کا سامنا ہے، ہم طالبان پر بھی دباؤ ڈالیں گے کہ وہ انسانی بنیادوں پر کام کرنے والے اداروں کو ضرورت مند علاقوں تک آزادانہ رسائی دیں۔‘امیر متقی نے نامہ نگاروں سے بات چیت میں کہا ہے کہ طالبان عالمی برادری سے تعلقات بہتر کرنا چاہتے ہیں تاہم کسی کو ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں ہو گی۔امریکی محکمہ خارجہ نے بتایا تھا کہ اس ملاقات میں امریکہ کی جانب سے افغانستان میں طالبان کی حکمرانی کو تسلیم کرنے کا حوالہ نہیں دیا گیا۔امریکہ کا کہنا تھا کہ طالبان نے امریکی شہریوں کے انخلا میں تعاون کی پیشکش کی ہے۔امریکی حکام نے بتایا کہ تقریباً 100 افراد افغانستان میں موجود ہیں۔ ان میں سے بیشتر افغانی نڑاد امریکی شہری ہیں اور ملک چھوڑنے کے بارے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔لیکن امریکہ نے اعتراف کیا کہ وہ زیادہ تر افغان اتحادیوں کو وہاں سے نہیں نکال پایا۔ترجمان نے یہ واضح نہیں کیا کہ دونوں فریقوں کی نمائندگی کون کرے گا۔ سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر جنرل فرینک میک کینزی سمیت سینئر امریکی حکام نے اگست میں کابل میں طالبان سے ملاقات کی تھی جب امریکی افواج نے ہوائی اڈے کا کنٹرول سنبھالا تھا۔افغانستان کو معاشی اور انسانی بحران کا سامنا ہے امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا کے بعد سے بین الاقوامی امداد انتہائی محدود ہے۔جمعے کو افغانستان میں خودکش دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی نمازِ جنازہ سنیچر کو ادا کی گئی۔ متاثرہ خاندان کے ایک فرد نے بتایا ہے کہ ’(ہم) لاشوں کو ایک ساتھ دفنا رہے ہیں کیونکہ اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں۔ ہمیں اجتماعی قبریں بنانا ہوں گی۔‘اقوام متحدہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ جمعے کا دھماکہ ’رواں ہفتے کا تیسرا خطرناک حملہ تھا جس میں مذہبی ادارے کو ہدف بنایا گیا۔ اور یہ پْرتشدد واقعات کا خوفناک رجحان ہے۔‘

Related Articles